دُور اَندیشی، مزاحمت : ایران کی عسکری حکمتِ عملی

Ahl-al-Bayt Raah-e-Najaat | اہلبیتؑ راہِ نَجات
0
دُور اَندیشی، مزاحمت اور شیعہ فکر: ایران کی عسکری حکمتِ عملی دنیا کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جو قومیں صرف طاقت پر نہیں بلکہ دُور اندیشی، حکمت اور نظریے پر اپنی بنیاد رکھتی ہیں وہی طویل عرصے تک اپنے دشمنوں کے مقابل کھڑی رہتی ہیں۔ ایران کی موجودہ دفاعی حکمتِ عملی کو اگر اس زاویے سے دیکھا جائے تو اس میں ایک واضح فکری پس منظر نظر آتا ہے جو صرف عسکری نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہے۔ ایران نے گزشتہ چند دہائیوں میں اپنی عسکری طاقت کو روایتی انداز میں ٹینکوں، بھاری بری فوجی سازوسامان یا بڑی جنگی گاڑیوں پر مرکوز نہیں کیا۔ اس کے برعکس اس نے اپنی توجہ میزائل ٹیکنالوجی اور ڈرونز کی تیاری پر مرکوز رکھی۔ اس حکمت عملی کی بنیادی وجہ جغرافیائی حقیقت تھی۔ ایران جانتا تھا کہ اس کا اصل دشمن اس کی سرحدوں کے ساتھ نہیں بلکہ فاصلے پر موجود ہے، خصوصاً اسرائیل۔ اسی لیے اس نے ایسے ہتھیاروں کی تیاری کو ترجیح دی جو دور بیٹھے دشمن کو نشانہ بنا سکیں۔ آج جب ایران کے تیار کردہ میزائل چند منٹوں میں اسرائیل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سائرن بجنے کے فوراً بعد ہدف تک پہنچ جاتے ہیں تو یہ صرف ٹیکنالوجی کی کامیابی نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی دُور اندیشی کا نتیجہ ہے۔ شیعہ فکر میں مزاحمت اور ظلم کے مقابل کھڑے ہونے کا تصور بہت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی جڑیں کربلا کے واقعے میں ملتی ہیں جہاں نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کے لیے کھڑے ہونے کا راستہ اختیار کیا۔ کربلا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کے دفاع کے لیے صرف جذبہ ہی نہیں بلکہ حکمت بھی ضروری ہے۔ ایران کی دفاعی پالیسی کو اسی مزاحمتی فکر کے تسلسل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اگر کسی قوم کو اپنی آزادی، عقیدے اور وقار کی حفاظت کرنی ہے تو اسے دشمن کی نوعیت کو سمجھ کر اپنی حکمت عملی بنانی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے محدود وسائل کے باوجود ایسی دفاعی صلاحیتیں پیدا کیں جو بڑی طاقتوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن گئیں۔ شیعہ عقیدہ میں یہ تصور بھی پایا جاتا ہے کہ ظلم کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنا درست نہیں۔ تاریخ میں کا کردار ہو یا کربلا میں کی قربانی، دونوں ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ حق کی حفاظت کے لیے عقل، صبر اور حکمت کے ساتھ مزاحمت ضروری ہے۔ اسی نظریاتی پس منظر کی وجہ سے ایران اپنی دفاعی صلاحیت کو صرف جنگی طاقت کے طور پر نہیں بلکہ مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ میزائل اور ڈرونز کی ترقی کو وہ اس بات کی ضمانت سمجھتا ہے کہ اگر کبھی اس پر یا اس کے اتحادیوں پر حملہ ہوا تو وہ دور بیٹھے دشمن کو بھی جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مختصراً، ایران کی عسکری حکمت عملی کو صرف فوجی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور تاریخی تناظر میں بھی سمجھنا چاہیے۔ یہ وہی فکر ہے جو کربلا کے پیغام سے جڑی ہوئی ہے: ظلم کے سامنے سر نہ جھکانا، بلکہ حکمت اور دُور اندیشی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا۔ سیف جعفری
  • Newer

    دُور اَندیشی، مزاحمت : ایران کی عسکری حکمتِ عملی

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default